کولکاتا،30؍جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) جعلی ویکسی نیشن معاملے میں مرکزی وزارت صحت نے ریاستی حکومت سے رپورٹ طلب کی ہے۔ مرکزی سکریٹری صحت راجیش بھوشن نے چیف سیکریٹری کو خط لکھ کر اس پورے معاملے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ اپوزیشن لیڈر شوبھندو ادھیکاری نے مرکزی وزارت صحت کو خط لکھ کر کہا تھا کہ جعلی ویکسی نیشن معاملے کی اعلیٰ سطحی جانچ کی جائے۔ مرکزی وزارت صحت نے شوبھندو ادھیکاری کے اس خط کی بنیاد پر ہی چیف سکریٹری سے رپورٹ طلب کی ہے۔
ایک دن قبل ہی جعلی ویکسی نیشن معاملے میں پولس نے دو افراد کو گرفتار کیا تھا اس میں کلیدی ملزم دیبانجن کا چچا زاد بھائی بھی شامل ہے۔ کنچن دیب سے متعلق پولیس نے کہا کہ وہ دیبانجن کے دفتر کی دیکھ بھال کرتا تھا ان دونوں افراد کو 5 جولائی تک پولیس تحویل میں لیا گیا۔
دبنجن کے وکیل دیویندو بھٹاچاریہ نے منگل کو عدالت کو بتایا تھا کہ ان کے مؤکل دبنجن دیب کا تین سال قبل ماہر نفسیات سے علاج کرایا گیا تھا۔ انہوں نے عدالت میں دعوی کیا کہ دبنجن ایک ذہنی مریض ہے۔ دبنجن کو علی پور کورٹ کے چیف ڈویژنل جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وکیل نے کہا کہ دبنجن کو ماہر نفسیات کی ضرورت ہے۔ عدالتی ذرائع کے مطابق ایڈیشنل چیف جوڈیشل جج سبرت مکھرجی نے وکیل سے پوچھا کہ کیا ان کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کلکتہ پولیس سے اس معاملے میں ریکارڈ طلب کیا ہے۔ عام طور پر ای ڈی صرف مالی دھوکہ دہی کی جانچ کرسکتی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اس معاملے کی تفصیلات ای ڈی کو ریاستی پولیس سونپتی ہے یا نہیں۔ پراسیکیوٹر سورن گھوشال نے عدالت کو بتایا تھا کہ دبنجن کے پاس سے بڑی تعداد میں جعلی ڈاک ٹکٹ ملے ہیں۔ متعدد بینک کھاتوں سے کروڑوں روپے کا لین دین ہوا ہے۔ پولیس تفتیش میں تین نئی دفعات میں اس کیس میں شامل کیا گیا ہے۔ جعلی دوائیں تیار کرنا، جعلی دوائیں بیچنا اور تقسیم کرنا شامل ہے۔